گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
Poet: UA By: UA, Lahoreننھے منے پیارے پیارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
ان کے دم سے گھر کی رونق ان کے دم سے رحمت
جس گھر میں ہوں چھوٹے بچے اس گھر میں ہو برکت
ان کے دم سے خوشیاں ہیں ان کے دم سے راحت
بچے نہ ہوں گھر میں تو کس کام کی خالی دولت ہے
گھر بھر کے ہیں راج دلارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
سندر سندر من موہنے معصوم نگاہوں والے
ضدی بچوں کی ضد کے بھی ہیں انداز نرالے
جانتا ہے وہ جس نے بچے لاڈ پیار سے پالے
دل کے نازک ہوتے ہیں یہ بچے بھولے بھالے
چندا ماما سے بھی پیارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
آنکھوں میں شرارت ان کی ہونٹوں پہ مسکانیں
گھر والوں کو بھاتی ہے ان کی یہ عادت جانیں
اپنے من کی سنتے ہیں یہ کسی کی بات نہ مانیں
منواتے ہیں اپنی ہر بات ہم مانیں یا نہ مانیں
واہ واہ واہ واہ واہ رے واہ رے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کے ہیں راج دلارے چھوٹے چھوٹے بچے
پھولوں جیسے نرم و نازک رنگوں سے رنگیں
والدین کو لگتے ہیں یہ ہر شے سے حسین
شفقت سے چومیں جب ان کا چہرہ اور جبین
خوشی سے ہو جاتے ہیں بچے اور بھی حسین
ہوں تمہارے یا ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
ننھے منے پیارے پیارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






