گیت
Poet: NADEEM MURAD By: ندیم مراد, umtata RSAاردو شاعری کی لطیف صنف گیت، گیت کا بھی غزل کی طرح کوئی عنوان نہیں ہوتا وہ اپنے مزاج، آہنگ اور مضامین سے پہچانا جاتا ہے۔ ایک گیت پیش خدمت ہے۔
سانسوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
باتوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
موسم تو آتے ہیں سردی بھی آتی ہے
شہروں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
یخ بستہ سردی کیا ہے، گر ہو ملنا طے
گلیوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
الفت میں ٹوٹے دل ٹھنڈے بھی پڑ جائیں
سینوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
منزل کی جانب سب چلتے ہیں تیزی سے
جزبوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
بارش میں بھیگے تو ٹھنڈی ہو ہر اک شئے
جسموں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
دیکھی ہے چھپ چھپ کر میں نے تو وہ لڑکی
پردوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
کہتی ہے مجھ سے یہ سردی کی ٹھنڈک بھی
دونوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
پھولوں پر بھنورے جو دیکھیں تو بڑھنے کی
کلیوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






