ھر طرف طلب الفت کےلیے پھرتے ھیں میرے یار
قدم قدم پر نت نئے بھیس بدل لیتے ھیں میرے یار
کتنے سادہ دل ھیں کہ سن کر نازک سی صوت آہنگ
الفاظ کے پیج و تاب میں الجھ جاتے ھیں میرے یار
صحراؤں کے سرابوں میں پیاس تو بجھتی نہیں پھر بھی
کتنی آسانی سے ٹیلوں کو منزل بنا لیتے ھیں میرے یار
کس ازیت سے برداشت کرتے تھے وہ مسافت کی ابتلا
یہاں تو مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ھیں میرے یار
جانے کس منزل کی طرف رواں دواں رھتے ھیں یہ لوگ
اور فورا“ نت نئے سانچوں میں ڈھل جاتے ھیں میرے یار
اس زمانے میں کس بناء پر بھروسوں کا محل تعمیر کروں
ھر لحظہ دیکھتے دیکھتے کسطرح بدل جاتے ھیں میرے یار
سنا ھے بن جاتے ھیں لوگ کندن آگ میں جل کر اے حسن
مگر شمع کو جلتا دیکھ کر فورا“ پگھل جاتے ھیں میرے یار