ھم تیرے ساتھہ راہ عشق میں چل دیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanمحبت کی نظر سے دیکھنا مجھے اچھا لگا
منفرد انداز سے یہ شخص مجھے اچھا لگا
مغرور لحجے میں یوں بولنا مجھے اچھا لگا
پھر ادا و ناز سے بولنا مجھے اچھا لگا
کیا بتائیں ھم تیرے اس انداز سے
میرے دل کی کیا کیفیت رہی ھے
پھر بھی مجھے یہ شخص اچھا لگا
جاگتی آنکھوں سےسپنے دیکھنا اچھا لگا
بس اب ھر پل تجھے سوچتی رھتی ھوں میں
ھم تیرے ساتھہ راہ عشق میں چل دیں
مجھے یوں ساتھہ تیرا چلنا اچھا لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







