ھم کو تم منتظر ھی پاؤ گے
Poet: Dr Qamar Siddiqui By: Dr Qamar Siddiqui, Kharianقربتیں فاصلوں ڈھل جائیں
دوست جب راستے بدل جائیں
ھم کو تم منتظر ھی پاؤ گے
لوٹ کرجب کبھی بھی آؤ گے
غم نہ کرنا ملول مت ھونا
جان جاناں فضول مت رونا
ھم کو تم منتظر ھی پاؤ گے
لوٹ کرجب کبھی بھی آؤ گے
پلکیں رہ میںبچھائے بیٹھے ھیں
راستوں کو سجائے بیٹھے ھیں
ھم کو تم منتظر ھی پاؤ گے
لوٹ کرجب کبھی بھی آؤ گے
ہم کو ٹھکرا کے چل دئیے ہو تم
دیکھو کس راہ چل دئیے ہو تم
ھم کو تم منتظر ھی پاؤ گے
لوٹ کرجب کبھی بھی آؤ گے
سن لو واللہ جاں نکلتی ھو
زندگانی کی شام دھلتی ھو
ھم کو تم منتظر ھی پاؤ گے
لوٹ کرجب کبھی بھی آؤ گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






