ھمارا کراچی اور ھماری عید

Poet: سید مہتاب شاہ By: سید مہتاب شاہ, karachi

ھمارا کراچی اور ھماری عید
آج ھر طرف بچے
اپنے والدین سے
عید کی شاپنگ کی ضد کررھے ہیں ایسے میں میرے بچے نے
بھی مجھ سے بہت ضد کی
میں اسے کیسے بتاؤں
کہ بیٹا عید کس شے کانام ھے
بچے کی ضد کے ھاتھوں
جب میں مجبور ھوا
اور اسے شاپنگ کرانے لے گیا
یہاں شاپنگ کرنے والے کم نہیں تھے
لیکن ہر طرف کفن ہاتھوں ہاتھ بک رہا تھا
میں نے اپنے بچے سے کہا
چل بیٹا
ھم کہیں اور چلتے ہیں
بچہ تو بچہ تھا
کہنے لگا یہیں کیوں نہیں پاپا
بیٹا پچھلے سال میں تم لوگوں
کو لے کر یہاں آیا تھا
شاپنگ کرنے
لیکن بیٹا آج یہاں کفن کی دکانیں
کھل گئی ھیں
بیٹا ضد کرنے لگا
تو پاپا
پلیز
ایک مجھے بھی
دلا دو ناں

Rate it:
Views: 568
24 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL