ھمارا کراچی اور ھماری عید
Poet: سید مہتاب شاہ By: سید مہتاب شاہ, karachiھمارا کراچی اور ھماری عید
آج ھر طرف بچے
اپنے والدین سے
عید کی شاپنگ کی ضد کررھے ہیں ایسے میں میرے بچے نے
بھی مجھ سے بہت ضد کی
میں اسے کیسے بتاؤں
کہ بیٹا عید کس شے کانام ھے
بچے کی ضد کے ھاتھوں
جب میں مجبور ھوا
اور اسے شاپنگ کرانے لے گیا
یہاں شاپنگ کرنے والے کم نہیں تھے
لیکن ہر طرف کفن ہاتھوں ہاتھ بک رہا تھا
میں نے اپنے بچے سے کہا
چل بیٹا
ھم کہیں اور چلتے ہیں
بچہ تو بچہ تھا
کہنے لگا یہیں کیوں نہیں پاپا
بیٹا پچھلے سال میں تم لوگوں
کو لے کر یہاں آیا تھا
شاپنگ کرنے
لیکن بیٹا آج یہاں کفن کی دکانیں
کھل گئی ھیں
بیٹا ضد کرنے لگا
تو پاپا
پلیز
ایک مجھے بھی
دلا دو ناں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






