ھمیں اپنا بنا کے تو دیکھو
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین, karachi کبھی ربط الفت بڑ ھا کےتودیکھو
محبت مری آزما کے تو دیکھو
مثال محبت جہاں میں بنیں گے
ھمیں ذرا اپنا بنا کے تو دیکھو
زندگی کی راہوں میں گل بھی ملیں گے
کہ خار راہوں سے ہٹا کے تو دیکھو
ملیں گی نہ ڈھونڈے سے پھر نفرتیں یاں
اک دیا پیار کا جلا کے تو دیکھو
کبھی پا سکو گے نہ سکون دل کہیں
مجھے دل سے اپنے بھلا کے تو دیکھو
سجا دوں حنا کے حسیں رنگ سارے
کبھی ہاتھ اپنا بڑھا کے تو دیکھو
کٹھن لاکھ ہوں راہیں اپنے ملن کی
ھمیں ذرا دل سے بلا کے تو دیکھو
کہیں چھوڑ کر راہ دشوار پہ رہبر
مرا حوصلہ آزما کے تو دیکھو
معین مل رہیں گے ستارے بھی تم سے
کبھی دل بھی ھم سے ملا کے تو دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






