ھوے سعید جو صاھب رضا ھوے
Poet: abdul hameed By: abdul hameed, gumbat kohat kpkصبح ھوتی ھے شام ھوتی ھے
عمر یونہی تمام ھوتی ھے
کتنےآئے کتنے گیے
جا نے وھی جس نے پید ا کئے
کتنے ملے کتنے جد ا ھوے
ھوے سعید جو صاھب رضا ھوے
غفلت میں جو پڑے حسرت اٹھا گئے
آمد و رفت ھے روز کی د ل پھر بھی نہ وا ھوے
پنہا ں کیا ھے اسکی نظر سے مگرحجت تا م ھوتی ھے
صبح ھوتی شام ھوتی ھے
عمر یونہی تمام ھوتی ھے
پھیرکیسا ھے زند گی کا لوٹے شام صبح گئے
آج اور کل میں سا لوں گزر گئے
خبر تک نہ ھو سکی قبر میں جا پڑے
چیخ و پکار سنی بہت مد ہوش ھی رھے
مٹا ئی عمر جس لیے دھرے کے دھرے رہ گئے
کا ش جان لیتے ترے بنا زند گی نا کا م ھوتی ھے
صبح ھوتی ہے شام ھوتی ھے
عمر یونہی تمام ھوتی ھے
رنگینیاں جو د یکھیں قا بو میں نہ رھے
شوق جنوں میں ان سے ھی لپٹ گئے
اژدھام تھا اک ایسا ڈ وبے ھی رہ گئے
صد ا ئیں لگیں بہت مگر سن ھی نا سکے
ڈ وبتے چلے کنا رے کو بھول ھی گئے
کیا خبر موج تلا طم ا نجام ھوتی ھے
صبح ھوتی ھے شام ھوتی ھے
عمر یونہی تمام ھوتی ھے
دیکھو بھا یئو د وستو اپنے نبی کی ما ن کر چلو
من ما نی تبا ھی ھے خوب جان لو
ھر گھڑی ھرپل کتا قیمتی ھے کبھی نا سمجھ سکو
بن د یکھے جو آ گے ھے ایمان بنا لو
جینا بھی مجبوری ھے مرنا بھی مجبوری کچھ تو سوچ لو
عبا د ت نہ ہو سکے تو آ ہیں بھرتے رھو
اسکی نظر ھے ایسی کبھی محروم نا رھو
ٹنوں مٹی تلے حمید آخر جان ھوتی ھے
صبح ہوتی ھے شام ھوتی ھے
عمر یونہی تمام ھوتی ھے
انسان نے کی ہے فقط عادت کی پرستش
سچ بولنے والوں کو ملا دار کا تحفہ
جھوٹوں نے مگر پائی ہے عزّت کی پرستش
ایوانِ سیاست میں یہ منظر ہے عجب سا
کردار نہیں، ہوتی ہے صورت کی پرستش
محروم ہی رہتے ہیں ہمیشہ اہلِ دانش
جاہل کو ملی شہر میں شہرت کی پرستش
حق بات جو کہہ دے وہی مجرم ٹھہرا ہے
بکنے لگے بازار میں قیمت کی پرستش
جمہور کا نعرہ تو بہت گونج رہا ہے
اندر سے مگر جاری ہے طاقت کی پرستش
وشمہ" یہ زمانہ ہے مفادوں کا اسیر اب
کم ہو گئی لوگوں میں محبت کی پرستش
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے
ہوئے جو دہر میں رسوا تو کچھ ملال نہیں
تری نظر میں تو میرا کوئی مقام رہے
سبب ہو کوئی مگر یہ بھی سچ ہے اے شاعر
کنارے تو رہے اور تشنہ در و بام رہے
اللہ کرے گھر میں رہے رَحمتوں کی ہَوا
اُلفـَت کے دِیے جَلتے رَہیں رات دِن یَہاں
مُحبت کا ہو چَرچا، ہو وَفاؤں کا سِلسِلہ
رِشتوں میں ہو نَرمی بھی، دِلوں میں قَرار ہو
ہَر موڑ پر تُمہارے لیے رَب کا پیار ہو
غَم کی گھَٹا اگر کَبھی آسمان پرَ آئے
صَبَر و دُعا کا سایہ تُمہیں تھامنے کو آئے
رِزَقِ حلال، عِزت و اَولاد کی بَہار
ہَر سِمَت سے نَصیب ہو خُوشیوں کا اِعتبار
اَظہرؔ کے اِس گھرانے پہ کَرم ہو یا اِلٰہ
آباد یہ چَمن رَہے تا حَشَر اَے خُدا
مَظہرؔ کی ہے بَس اِتنی دُعا صُبح و شام یہ
رَحمت بَرَس رَہی ہو تُمہارے ہَر اِک قَدَم پہ






