ھے عادت بچپن کی ابھی تک باقی
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaایک شخص جس کو کہ اپنا جانا
کسقدر غیر تھا یہ نا جانا
جسکی تعبیر نہ ھوئ ھو اس کو
ایک ایسا خوش کن سپنا جانا
یہ خود فریبی ھے کتنی اپنی
زندگی کو پیار کا جھرنا جانا
ھے عادت بچپن کی ابھی تک باقی
ھنسنے والے کو صرف اپنا جانا
کلیو ں پر گزری غنچہ دل سے نہ پوچھ
طوفاں کا تو شیوہ ھے آنا جانا
کتنے دور تھے خود ھی سے ھم
ھر سراب کو اپنے لئے خو ش کن جانا
بھول کرنے کی عادت سی رھی ھے عارف
ھر پتھر کو نگاھوں میں نگینہ جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






