ہائے محبت
Poet: Shahid By: Shahid Sweet, phaliaمحبت راہوں پہ جب ہم چلے تھے
تو کوئی بھی ہم سے محبت کرنے کو تیار نہ تھا
بہت کوشش کی لیکن ہر بار ناکام رہے
بار بار کوشش کی لیکن ہر بار ناکام رہے
بعد میں ہم نے یہ کام چھوڑنے کا فیصلہ کیا
جب ہم نے یہ کام چھوڑنے کا فیصلہ کیا
تو کیا ہو
تو لوگوں نے خود مجھے ستانا شروع کر دیا
کوئی ادھرسے ستاتا کوئی ادھر سے ستاتا
تو پھر ہم کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا
کہ کس کے ساتھ ہم محبت کریں
جب ہم کسی کے خریدار تھے
تو اس وقت کوئی بھی نہ تھا
جب ہم نے یہ کام چھوڑ دیا تو ہمارے کئی خریدار بن گئے
اب ہم کیا کریں کس کے ہاتھوں میں بکیں
کس کو اپنا دل دیں اور کیا کریں
چلو یہ فیصلہ ان لوگوں پر چھوڑ دیتے ہیں
ان میں سے جو بھی ہم سے زیادہ پیار کرے گا
ہم اس کو اپنا دل دیں گے
اے شاہد اب تیرے لیے یہ فیصلہ مشکل ہے
کہ کون تیرا ہے اور تو کس کا ہے
More General Poetry
ماں کی ممتا کا جو دنیا میں ہے کردار میاں ماں کی ممتا کا جو دنیا میں ہے کردار میاں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
MAZHAR IQBAL GONDAL
جہا ں میں قد ر دے اردو زبا ں کو تو جہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو
MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH







