ہاتھوں سے اُس کے نام کی لکیریں مٹ گئیں

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

ہاتھوں سے اُس کے نام کی لکیریں مٹ گئیں
تقدیر تھیں جو میری ٗ وہی تقدیریں مٹ گئیں

کہاں کے اٹوٹ بندھن جو کاغذوں سے جڑتے ہیں
سبھی کچھ مٹ گیا جب تحریریں مٹ گئیں

جس نے کیا نہ کبھی پرے اپنے پیار سے مجھے
مجھ پر سے اُس پیار کی زنجیریں مٹ گئیں

پایا اُس خواب کو اِک عرصۂ حیات تلک
کُھلی جیسے ہی آنکھ ٗ تعبیریں مٹ گئیں

سَو سوچی تھیں ٗ نہ کھوئیں گے اُسے ہم کبھی
وقت نے چھین لیا اُسے ٗ تدبیریں مٹ گئیں

اللہ رے! میری محبت کے ہر موڑ پہ شکوے
جب ٹوٹ گئے سلسلے ٗ سبھی تقصیریں مٹ گئیں

Rate it:
Views: 481
27 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL