ہاتھوں کی لکیروں میں کرن دیکھ رہا ہوں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاس شوخ کا مسحور حسن دیکھ رہا ہوں
فطرت کا یہ بے ساختہ پن دیکھ رہا ہوں
رنگوں کا آرزو سے ملن دیکھ رہا ہوں
تتلی کو خوشبوؤں میں مگن دیکھ رہا ہوں
حیراں ہوں اپنی آنکھ کی پر راز خطا پر
جلتا ہوا گلوں کا بدن دیکھ رہا ہوں
یہ اسکا فیض ہے کہ بہاریں ہیں چار سو
تاحد نظر صحن چمن دیکھ رہا ہوں
ہے میری ہتھیلی میں نہاں چاند کا پرتو
ہاتھوں کی لکیروں میں کرن دیکھ رہا ہوں
دیکھا کسی کا عکس تو ایسا لگا مجھے
مانوس بت تراش کا فن دیکھ رہا ہوں
جو لب پہ کبھی آ سکے نہ میرے تمہارے
وہ لفظ سر بزم سخن دیکھ رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






