ہاں بس ہاں ہو
Poet: By: Hukhan, karachiاب تو عجب اک خواب ہے
کوئی نہ ہو بس اس کا ساتھ ہو
وہی میری دھوپ وہی برسات ہو
کوئی بھی دن نہ ہو بنا اس کے جمعہ یا جمعرات ہو
اسی سے کرنی ہے اب التجا یا کوئی درخواست ہو
کہہ دیں گے اس سے تمہی زمین تمہی میرا آسمان ہو
نہیں لگتا اب کہیں دل کتنا ہی خوب کوئی جہان ہو
ہو پل بھی وہ دور بھلا کہاں دل کی ایسی مجال ہو
نہیں کوئی ایسا پہر نہ جو اس کا خیال ہو
ڈرتے ہیں بہت اب نہ کہیں وہ ہم سے ناراض ہو
بس وہ ہو ہم ہوں اور پیار کی برسات ہو
ہاں کل ہو اور اس کا جیون بھر ساتھ ہو
اسکی ہر ادا پر دل ہمارا قربان ہو
وہ جان ہو ہماری دل اس کا غلام ہو
فرمائش ہو اس کی لبوں پر
ہماری بس ہاں ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






