ہاں تجھ کو پیار کروں گا سدا خیالوں میں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore ,Pakistanکیوں تو نے دل کو لگایا ہے ایک شاعر کے
کہ مفلسی میں تجھے کچھ بھی دے نہیں سکتا
یہ سیم و زر کا جہاں ہے
تو سوچ لے تو ذرا
دوچار دن کی محبت کا
فائدہ کیا ہے
میں چاہتا ہوں بنا لوں
تجھے شریک حیات
مگر تو چھوٹے سے گھر میں
نہ خوش رہے گی کبھی
آسائشوں کی طلب گار تو رہے گی سدا
ہے اونچ کی دنیا
تو چھوڑ دے گی مجھے
جدید دور مین الفت سے کام چلتا نہیں
ہو پاس عہدہ و پیسہ
تو بات بنتی ہے
کہاں تلک تو مرے پیار ہی سے
بہلے گی
کہے گی کار نہیں
میرے پاس بنگلہ نہیں
نہ کر سکیں گے جو بجلی کا بل
ادا دونوں
محبتوں کو کہاں تک نبھائیں گے دونوں
ابھی تو اور بہت سے بلوں کا ذکر نہیں
جنھیں ادا بھی جو کر دیں تو
روٹی چلتی نہیں
کرا سکوں گا نہ شاپنگ
نہ ہوٹلنگ تجھ کو
نہ لا سکوں گا میں میک اپ کی
مہنگی چیزیں کبھی
تجھے بنایا ہے قدرت نے ایک شہزادی
مگر شاہانہ سے ملبوس
کیسے دوں گا تجھے
یہ سوچ کر میں بہت
دور تجھ سے رہتا ہوں
تو چھوڑ دے مجھے تنہا یہ تجھ سے کہتا ہوں
ہاں تجھ کو پیار کروں گا سدا خیالوں میں
اداس ہو کے بہت مفلسی کے حالوں میں
کیوں تو نے دل کو لگایا ہے ایک شاعر سے
کہ مفلسی میں تجھے کچھ بھی دے نہیں سکتا
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






