ہاں ہہ درد میں سہہ سکتی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Kuala Lampurکہنا تم بن رہ سکتی ہوں
ہاں ہہ درد میں سہہ سکتی ہوں
ساتھ ابد تک رہنے کی
اور ہر درد کو سہنے کی
میں نے قسم جو کھائی تھی
ساتھ تمہارے چلنے کی
اس سے یہ بھی کہہ دینا
تم بن درد سا اٹھتا ہے
دل ہر آن تڑپتا ہے
تیرے وعدوں پر اب بھی
اشک مچلنے لگتے ہیں
آنکھیں بھر بھر آتی ہیں
دل اب بھی کرلاتا ہے
لیکن یہ بھی کہنا ہے
تم بن اب بھی رہ سکتی ہوں
ہاں یہ درد میں سہہ سکتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






