ہاں یاد ہے
Poet: By: Hukhan, karachiہاں آج بھی وہ مسکرایا تھا
جب اسے حسین ہونے کا بتلایا تھا
چاند بھی ذرا سا شرمایا تھا
اسے بھی شاید چاندنی پر پیار آیا تھا
دل ہمارا بھی ڈگمگایا تھا
آنچل جب کندھے سے نیچے سرک آیا تھا
ہاں یاد ہے وہ شرمایا تھا
یہ ہی منظر ہمارا سرمایا تھا
قصہ کچھ یوں شروع ہو پایا تھا
اسے محبت کا یقین دلایا تھا
وعدہ جو ہم نے کیا وہی دوہرایا تھا
چاندنی میں چہرہ اسکا ایسا نظرآیا تھا
جیسے چاند زمین پر اتر آیا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






