ہجر رہا نہ وصال رہا
Poet: SYED ISHTIAQ HUSSAIN KAZMI By: WAQAS SHAH, RAWALPINDIہجر رہا نہ وصال رہا
کوئی خواب نہ خیال رہا
کچھہ ایسی ادا سے بچھڑے وہ
پھر چاہتوں کو زوال رہا
اجڑی دل کی دنیا ایسی
حال ہمیشہ بے حال رہا
بیت گئے دن محبت والے
کوئی ماہ رہا نہ سال رہا
اب حسن کے مالک ہیں خزانے والے
پرستار ہمیشہ کنگال رہا
اب عوام فاکے سے مرتی ہے
حاکم حریص مال رہا
سب زاہد بن بیٹھے ہیں
کوئی نیت رہی نہ اعمال رہا
اب سفید پوشوں کا زمانے میں
کوئی بھرم رہا نہ خیال رہا
اب توبہ توبہ کرو اشتیاق
جوانی رہی نہ مال رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






