ہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کر دیتا ہے

Poet: Wasi Shah By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ہجر کا ناگ تو پتھر گھائل کر دیتا ہے
سونے جیسے شخص کو پیتل کر دیتا ہے

میرے عشق میں شاید کوئی کمی ہوئی ہو
تیرا حسن تو اب بھی پاگل کردیتا ہے

ایسی لذت کہیں نہیں ملتی، شاید وہ
اپنا پیار بھی چائے میں شامل کر دیتا ہے

دل میرا ویران ہوا تو حیرت کیسی
ہجر کا زہر تو دریا کو تھل کر دیتا ہے

مجھ ضدی کو رب بھی راضی کر نہ پائے
لیکن تیری آنکھ کا کاجل کر دیتا ہے

تیرے لمس کا جادو بھی کیسا جادو ہے
جس کو چُھو لے اس کو صندل کر دیتا ہے

تیرا چہرہ ہر چہرے پر چھا جاتا ہے
یہ منظر ہر منظر اوجھل کر دیتا ہے

آنکھ کے ریگستان کو تیری یاد کا بادل
چُھو جائے تو پل میں جل تھل کر دیتا ہے

Rate it:
Views: 766
23 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL