یوار پہ لرزہ ہے تو در کانپ رہا ہے

Poet: Wasi Shah By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

دیوار پہ لرزہ ہے تو در کانپ رہا ہے
بچھڑے ہو تو اجڑا ہوا گھر کانپ رہا ہے

تم آنکھ کی پُتلی میں چُھپے سچ کو بھی دیکھو
مجرم تو نہیں ہے وہ اگر کانپ رہا ہے

ویران ہے اس درجہ ترے بعد مرا دل
اس شہر میں آتے ہوئے ڈر کانپ رہا ہے

اک میں کہ جدائی نے مجھے کر دیا ساکت
اک تو ہے کہ صدمے سے ادھر کانپ رہا ہے

آنگن کو پلٹ جاؤں نہ میں چھوڑ کے اس کو
صحرا میں مرا خوابِ سفر کانپ رہا ہے

یا تو مری بینائی پہ ہے خوف مسلط
یا نہر کے پانی میں شجر کانپ رہا ہے

بُجھنے نہیں دوں گا میں کبھی ہجر کے صدمے
دل میں تری یادوں کا شرر کانپ رہا ہے

Rate it:
Views: 1736
23 Sep, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL