ہر آسماں پہ لگے اگلے آسماں تک ہے
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادہر آسماں پہ لگے اگلے آسماں تک ہے
نہ جانے ضبط کا یہ امتحاں کہاں تک ہے
جہاں جہاں پہ تجھے درد دھوپ چُھو پائے
مری دعاؤں کا سایہ وہاں وہاں تک ہے
تجھے ملا ہے وہ اخلاص دیکھ کر جس کو
فقط مکاں نہیں حیران لا مکاں تک ہے
نہ دیکھو صرف چمکتے ہوئے دلوں کو ہی
محبتوں کا اجالا تو کہکشاں تک ہے
ترے خیال ہی سے پھوٹتی ہے ہر لمحہ
وہ روشنی جو مرے خواب آستاں تک ہے
نہ رُک سکا ترا احساس جسم تک میرے
یہ سلسلہ تو مری رُوح میری جاں تک ہے
ہر ایک سانس میں اُنکے ہے وَرۡد کی خوشبو
جو سوچتے تھے کہ بس وَرۡد گلستاں تک ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






