ہر اک بات پہ مسکراتا ہے جھوٹا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: زروا بتول, Bangkokہر اک بات پہ مسکراتا ہے جھوٹا
کوئی غم تو ہے جو چھپاتا ہے جھوٹا
میں خوش ہوں میں راضی میں اچھا بھلا ہوں
یہ کاہے کے ناٹک دکھاتا ہے جھوٹا
کوئی گھر پہ جیسے تیرا منتظر ہو
بھری بزم یوں چھوڑ جاتا ہے جھوٹا
ہوئے ختم جن سے ترے سب مراسم
کیوں احوال ان کے سناتا ہے جھوٹا
وہ صورت کسی کی بھی صورت نہیں ہے
جو صورت جہاں کو دکھاتا ہے جھوٹا
ذرا سچ بتا وہ کسے کوستا ہے
جو تنہائی میں بڑبڑاتا ہے جھوٹا
گلا گھونٹنے والا باطن کا اپنے
زمانے کو جینا سکھاتا ہے جھوٹا
کہیں آ کے دیپک نکالے نہ آنکھیں
نظر آئنوں سے چراتا ہے جھوٹا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






