ہر ایک بات پہ تم خوش رہو تو اچھا لھے
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaہر ایک بات پہ تم خوش رہو تو اچھا لگے
تم اسکے ظلم بھی ہنس کر سہو تو اچھا لگے
چلے ہو سیرِ چمن کو مثالِ نکہتِ گلُ
ہو ا کا ہاتھ بھی گر تھام لو تو اچھا لگے
نظر بچا کے مرِی سمت چور آ نکھوں سے
تم اب بھی پیار سے دیکھا کرو تو اچھا لگے
یہ آرزو ہے کہ اِک بار اجنبی بن کر
ہمارے شہر میں کچھ دن رہو تو اچھا لگے
غلط سی بات ہو میری ، مگر مرِی خاطر
ہر ایک بات پہ " اچھا" کہو تو اچھا لگے
زبانِ خلق جو کہتی ہے غائبانہ تمہیں
وہ بات تم بھی اگر مان لو تو اچھا لگے
سبھی کی متفقہ رائے ہے کہ انور میاں
جو تھوڑی دیر کو تم چپ رہو تو اچھا لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






