ہر تراشا ہوا پتھر دیوتا ٹھہرے
Poet: Kamran.Wassal By: Eisha, Gujranwalaہر تراشا ہوا پتھر دیوتا ٹھہرے
میرے مسجودِ محبت بھی آج خد ا ٹھہرے
اک وقت کہ سانسوں کی ڈور ہی نہ سلجھتی تھی
اور آج زندگی کا ہر لمحہ میرے سوا ٹھہرے
پتھروں کے دیس میں شیشے جیسے خواب سجائے
آئے باغیِ تمدن بتا کہاں اب وفا ٹھہرے
میری خودی کو سکوں میرے بکھرنے سے ہے
یا پھر میرا جینا ہی جینے کی سزا ٹھہرے
میری آغوش میں وہ لذتِ لمس سے آشنا ہوا
اور اُس کی آغوش آج اپنی فنا ٹھہرے
کیسے بھول جاؤں میں اُس درد کے پیامبر کو وصل
اک لمحہ بھی جو رہوں غافل تو زندگی گناہ ٹھہرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






