ہر دعا تیرے حضور
Poet: UA By: UA, Lahoreاف یہ گرمی ہائے گرمی کیسی گرمی آئی ہے
شدت گرمی سے دیکھو خلق کل گھبرائی ہے
تمتماتی دھوپ، حبس اور گھٹن سے ہراساں
طائران خوش نوا پہ کیسی پیزاری چھائی ہے
زرد رو پتوں میں سمٹی سوکھی سوکھی ڈالیاں
پیلی گھاس، پھول، پتے اور چمن کی تتلیاں
باغ کے نازک مکینوں پہ ویرانی چھائی ہے
اف یہ گرمی ہائے گرمی کیسی گرمی آئی ہے
شدت گرمی سے دیکھو خلق کل گھبرائی ہے
کیا پرندے کی چرندے اور حیوان و بشر
تپتے میدان اور زمیں صحرا و بحر و شجر
ہر کوئی اپنی زباں میں ہائے ہو کرنے لگا
قہر برساتے فلک سے کانپنے ڈرنے لگا
دیکھو کیسی توبہ تو اور ہائے ہو کرنے لگا
لو لپٹ سے ساری خلق کیسے تلملائی ہے
اف یہ گرمی ہائے گرمی کیسی گرمی آئی ہے
التجا آمیز نظریں رو بہ آسماں ہوئیں
لبوں پہ جاری دعائے ابر باراں ہوئیں
گرم آنکھوں اور لبوں کی ہمنوا زبان بےزباں ہوئی
سوئے فلک جب خلق خدا محو التجا ہوئی
حکم الٰہی سے جنت کی کھڑکی وا ہوئی
سرسراتی نرم ہوا زیست کی ادا ہوئی
دور افق کے پار سے یکلخت گھٹا آئی
رفتہ رفتہ آتے آتے آسماں پہ چھائی
رحمت باری کے جلوے نمایاں ہونے لگے
جلتی تپتی دھوپ کے سائے نہاں ہونے لگے
رت بدلی کے آثار نمودار ہو گئے
بادل برسنے کے لئے تیّار ہوگئے
پہلا قطرہ، دوسرا اور تیسرے کے ساتھ ہی
اک تسلسل سے شروع برسات نے برسات کی
آسماں پہ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ
تڑ تڑا تڑ تڑ تڑا تڑ ہونے لگی برسات
ابر و آبیاری نے پیاسی زمیں کا تن چھوا
لہلہا اٹھی زمیں کیا خوب رو جوبن ہوا
کونپلیں بھی سر اٹھا کے جھومنے لگیں
تتلیاں مسکائیں اور گلوں کو چومتے لگیں
پھر توانا ہو گئے اشجار جو بیمار تھے
پھر پرندے گیت گانے کے لئے تیار تھے
باغ کی رونق چمن کا حسن دوبالا ہوا
ڈھے چکا تھا جو مکاں پھر سے وہ بالا ہوا
خلق عالم سربہ سجدہ ہوگئی ربّ کے حضور
پوری ہوتی ہے الٰہی ہر دعا تیرے حضور
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






