ہر رنگ محبت سے تمھاری نکھر جائے گا
Poet: Shaikh Khalid Zahid By: Shaikh Khalid Zahid, Karachiہر رنگ محبت سے تمھاری نکھر جائے گا
تم ادھر ادھر مت ہونا سب بکھر جائے گا
رات سی تاریکی میں روشنی کی دلیل تم ہو
تم سے جو الگ سوچا تو سب اجڑ جائے گا
ہر بات پر مسکرا دیتے ہو جیسے کوئی بات نہیں
یہ مسکراہٹ نا ملی، کوئی تو مر جائے گا
تمھاری مہک سے معطر ہوچکا شہر سارا
اپنے آس پاس ہی پائے گا جدھر جائے گا
اتنی محنت سے سجائے رکھا ہے تم نے راہی
تمھارے بعد کیا معلوم یہ راستہ کدھر جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






