ہر روش مجھ میں تو وقت معین تک بستا رہا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiہر روش مجھ میں تو وقت معین تک بستا رہا
الجھنوں نے استقلال توڑدیا اور زمانہ ہنستا رہا
ان روپ بدلتے چہروں میں کسے مستقل مزاج سمجھوں
اعتبار تھا بھی ایک مہلک بیماری اور درد بڑہتا رہا
اپنی ہی آواز ہونٹوں پر لاکر گمراہ ہوگئے
بڑی بے بس رہی عرضی یہ جہاں کٹتا رہا
یہ دروغی دنیا پیار پر تہمت لگانے سے باز نہ آئی
سلوک تو ضبط سے باہر مگر دشوار وقت گذرتا رہا
بے لطفی ہے مگر اپنی فضیلت کو کیسے بے جان کریں
کچھ شجاعت رکھی اور کچھ خیالوں میں دل بہلتا رہا
یہ رعیت گیری صداقت سے بدخواہی رکھتی ہے سنتوشؔ
بدر ہوکے بھی ایک دیوانہ یوں محبت مانگتا رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






