ہر شخص کی شخص سے شکایت بڑہ چکی ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiہر شخص کی شخص سے شکایت بڑہ چکی ہے
یہاں طعن اور تشنیع کی روایت بڑہ چکی ہے
کوئی تکبر سے کہتا ہے کوئی کہہ کر مکرتا ہے
روز کے معمول یہی اشاعت بڑہ چکی ہے
عہد و شرط پہ بڑا شور و غل جہاں میں
رسم سنجیدگی میں بھی عداوت بڑہ چکی ہے
کوئی بھی دامن کہیں باضابطہ نہیں رہتا
دغاؤں کی بھی باطل عنایت بڑہ چکی ہے
یہاں زبان بھی عیاں کچھ نہیں کرتی
نگاہ ہی نگاہ میں رسالت بڑہ چکی ہے
وہ سب تقلیدیں اب مثالیت پر ہی آگئی
وعظوں کی بے جا یہ وضاحت بڑہ چکی ہے
فرد ارمان کے خلاف دستور ہیں مزاج
ابکہ فنائی کی سنتوشؔ علامت بڑہ چکی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






