ہر طرف رکھا محبتوں پہ نقاب تھا
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbadمیرے سوال کا نا کوئی جواب تھا
میری چاھتوں کا ہوا حساب تھا
میری ڈائری کے ہر صفحے پہ
تیرے نام کا گلاب تھا
جو چھپ گیا تھا میری آنکھوں میں
تیرا ہی اک خواب تھا
نا مکھ سے پردہ اٹھا نا ہوا راز افشاں
ہر طرف رکھا محبتوں پہ نقاب تھا
فرقتوں میں دوری ہوئی سو ہوئی
جدائی میں بھی کیسا عذاب تھا
تیرے عشق میں میری جان ہر چیز جائز ہوئی
میرا گناہ بھی بنا ثواب تھا
میں جیسے پورا کرنا چاھتی تھی
اک ادھوری محبت کا نصاب تھا
نا ہوئی تھی کبھی میری نگاہ گستاخ
نگاہوں سے ہٹا تیرا نام لے کہ حجاب تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






