ہر غم کو سینے سے لگا ر کھا ہے
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiمیں نے دریا کو بھی کوزہ میں چھپا رکھا ہے
ہر غم دہر کو سینے سے لگا رکھا ہے
جس کو گل پاش نگاہوں کا امیں کہتے ہو
اس نے ہر ہاتھ میں اک سنگ اٹھا رکھا ہے
تم ستاروں کی ہی چالوں میں ہو الجھے الجھے
ہم نے گر دوں کو بھی ہمسایہ بنا رکھا ہے
روشنی شمس و قمر کی عنایت خا ص نہیں
اک دیا ہر بن مونے جلا رکھا ہے
آتش شوق میں جل جاتے ہیں دل والے
حسن بے پروا نے دیوانہ بنا رکھا ہے
تم تو کہتے ہو کہ حالات بدل جائیں گے
ہم نے خوابوں پہ بھی تکیہ ہی لگا رکھا ہے
تم مری آبلہ پائی سے حراساں کوں ہو
میں نے ہر زخم میں منزل کا پتہ رکھا ہے
جن کی خوشیوں سے بھرا رہتا تھا گلشن میرا
ان کی یادوں کو بھی اس دل سے لگا رکھا ہے
اک ذرا غور سے دیکھو سبھی اپنے ہونگے
جن کو ظلمات کی موجوں نے جدا رکھا ہے
اجنبی شہر میں برکات دیوار کھڑی کرتے ہو
تم نے اپنوں کو بھی اغیار بنا رکھا ہے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






