ہر لمحہ اسی کا ہے ہر سال اسی کا
Poet: By: Hina, کراچیہواؤں سے پوچھتی ہوں میں احوال اسی کا
بے خیالی میں بھی رہتا ہے خیال اسی کا
شام و سحر ہو یا زندگی کا کوئی پہر
ہر لمحہ اسی کا ہے ہر سال اسی کا
چاند میں نظر آتا ہے ستارے میں بھی وہ
آنکھوں پہ چھایا رہتا ہے جمال اسی کا
زندگی میں خوشیوں کی برسات ہوئی ہے
مگر دل پہ چھایا رہتا ہے ملال اسی کا
کچھ سوچوں بھی تو سوچوں میں کیسے
سوچوں پہ پھیلا رہتا ہے جال اسی کا
دنیا کو پانے کی تمنا دل میں نہیں ہے
ہر سجدے میں آتا ہے سوال اسی کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






