Add Poetry

ہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی

Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ہر ملاقات کے بعد اجنبیت اور بڑھی
اُس کو آئینے ہمیں زعمِ ہنر میں رہنا

گھاس کی طرح جہاں بُھوک اُگا کرتی ہو
اِتنا آسان نہیں شاخِ ثمر میں رہنا

چاند کی آخری راتوں میں بہت لازم ہے
ایک مٹّی کا دیا راہگزر میں رہنا

طائرِ جاں کے گزرنے سے بڑا سانحہ ہے
شوقِ پرواز کا ٹوٹے ہُوئے پَر میں رہنا

کوئی سیف ہو کہ مِیرؔ ہو کہ پروینؔ اُسے
راس آتا ہی نہیں چاند نگر میں رہنا

دو گھڑی میّسر ہو اس کا ہم سفر رہنا
پھر ہمیں گوارا ہے اپنا دربدر ہونا

اِک عذابِ پیہم ہے ایسے دورِ وحشت میں
زندگی کے چہرے پر اپنا چشمِ تر ہونا

اب تو اُس کے چہرے میں بے پناہ چہرے ہیں
کیا عجیب نعمت تھی ورنہ بے خبر ہونا

ہر نگاہ کا پتّھر اور میرے بام و در
شہرِ بے فصیلاں میں، کیا ستم ہے، گھر ہونا

سوچ کے پرندوں کو اِک پناہ دینا ہے
دھوپ کی حکومت میں ذہن کا شجر ہونا

اُس کے وصل کی ساعت ہم پہ آئی تو جانا
کس گھڑی کو کہتے ہیں خواب میں بسر ہونا

Rate it:
Views: 393
01 Nov, 2011
Related Tags on Sad Poetry
Load More Tags
More Sad Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets