دشت و دریا سے گزرنا ہو کہ گھر میں رہنا

Poet: Perveen Shakir By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

دشت و دریا سے گزرنا ہو کہ گھر میں رہنا
اب تو ہر حال میں ہے ہم کو سفر میں رہنا

دل کو ہر پل کِسی جادو کے اثر میں رہنا
خود سے نکلے تو کسی اور کے ڈر میں رہنا

شہر غم! دیکھ، تیری آب و ہوا خشک نہ ہو
راس آتا ہے اُسے دیدئہ تر میں رہنا

فیصلے سارے اُسی کے ہیں ہماری بابت
اختیار اپنا بس اتنا کہ خبر میں رہنا

کوئی خاطر نہ مدارات نہ تقریبِ وصال
ہم تو بس چاہتے ہیں تیری نظر میں رہنا

رات بھر چاند میں دیکھا کروں صورت اُسکی
صبح کو اور ہی سودا میرے سر میں رہنا

میں تو ہر چہرے میں اب تک وہی چہرہ دیکھوں
اس کو ہر روز تماشائے دگر میں رہنا

وہی تنہائی، وہی دُھوپ، وہی بے ستمی
گھر میں رہنا بھی ہُوا، راہگزر میں رہنا

ٹوٹنا یُوں تو مقّدر ہے، مگر کچھ لمحے
پھول کی طرح میّسر ہو شجر میں رہنا

Rate it:
Views: 1472
01 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL