ہر نغمۂ پر درد ہر اک ساز سے پہلے

Poet: افضل الہ آبادی By: Rabi, Rawalpindi

ہر نغمۂ پر درد ہر اک ساز سے پہلے
ہنگامہ بپا ہوتا ہے آغاز سے پہلے

دل درد محبت سے تو واقف بھی نہیں تھا
جاناں ترے بخشے ہوئے اعزاز سے پہلے

شعلوں پہ چلاتی ہے محبت دل ناداں
انجام ذرا سوچ لے آغاز سے پہلے

اب میری تباہی کا اسے غم بھی نہیں ہے
جس نے مجھے چاہا تھا بڑے ناز سے پہلے

شاہین وہ کہلانے کا حق دار نہیں ہے
جو سوئے فلک دیکھے نہ پرواز سے پہلے

اب راز کی باتیں نہ بتا دے وہ کسی سے
یہ خوف نہیں تھا کبھی ہم راز سے پہلے

تھی میر تقی میرؔ کی نوحہ گری مشہور
افضلؔ کی سسکتی ہوئی آواز سے پہلے

Rate it:
Views: 580
04 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL