ہزاروں راز ھوں افشاں، اگر یہ راز کھل جائے
Poet: سید نذیر کاظمی By: سید نذیر کاظمی, Al Ainمحبت پھول کی مانند نہیں ہوتی کہ مرجھائے
محبت وہ شجر ھے جو صدا گلشن کو مہکائے
نہیں یہ چاندنی جیسی کہ چند راتوں میں روشن ہو
محبت نورِ قدرت ھے ۔ ۔ ۔ ۔ جو ہر جانب نظر آئے
یہ وہ چشمِ پوشیدہ ھے کہ جو کچھ اور ہی دیکھے
وگرنہ یہ تو اندھی ھے، اسے کب کچھ نظر آئے !
یہ ایسی آگ ھوتی ھے، بھڑکتی ھے جو پانی سے
فنا ہوتا نہی ھے وہ ۔ ۔ ۔ ۔ جو جل کر راکھ ھو جائے
ہے سرگرداں فقط کس کے اثر میں رونقِ افلاک
ہزاروں راز ھوں افشاں، اگر یہ راز کھل جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






