ہم اپنی آنکھوں میں محبت کا سیلاب رکھتےہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamلوگ اپنی آنکھوں میں دولت کہ خواب رکھتےہیں
ہم اپنی آنکھوں میں محبت کا سیلاب رکھتے ہیں
کتاب زیست میں درد کہ کہ سوا کچھ نہیں
مگر سہانی یادوں کا ایک باب رکھتے ہیں
کسی کی محبت میں کیا کھویا کیا پایا
ایسی باتوں کا ہم کہاں حساب رکھتے ہیں
ہمارے دشمنوں کا تو کوئی معیار نہیں
لیکن دوست سبھی لاجواب رکھتے ہیں
ہماری راہوں میں وہی کانٹے بچھاتے ہیں
جن کے راستے میں ہم گلاب رکھتےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






