ہم اپنے سب ارادے بھول جاتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreہم اپنے سب ارادے بھول جاتے ہیں
خود سے کئے وعدے بھول جاتے ہیں
اے مہرباں ہم جب تمہارے
رو برو پو جاتے ہیں
کہتے تو ہیں کہ
اب تمہیں کبھی نہ ملیں گے
اب دیکھ دیکھ تم کو نہ
پھولوں سے کھیلیں گے
پر کیا کریں ۔۔۔؟
لبوں پہ تبسم کو روکنا
بس میں نہیں رہتا
وہ روبرو جو آتے ہیں
ہم اپنے سب ارادے بھول جاتے ہیں
خود سے کئے وعدے بھول جاتے ہیں
سوچا کہ ان کے سامنے سے
آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر
چپکے سے انکو دیکھے بنا
رستے سے گزر جائیں گے
پر کیا کریں پلکیں جھپکنا بھول جاتے ہیں
جب ان کو سامنے سے آتا ہوا پاتے ہیں
ہم اپنے سب ارادے بھول جاتے ہیں
خود سے کئے وعدے بھول جاتے ہیں
ہر بار ہم نے چاہا دل قابو میں رکھیں
ان کا خیال آئے تو کچھ اور سوچ لیں
پر کیا کریں انکا خیال آتے ہی یہ دل
سینے میں دھڑکنا ہی جیسے بھول جاتا ہے
محفل میں لوگ ان کے جب قصے سناتے ہیں
ہم اپنے سب ارادے بھول جاتے ہیں
خود سے کئے وعدے بھول جاتے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






