ہم ایک ہی نظر میں کر بیٹھے انتخاب
Poet: By: Khalid Pervez, Pasrur saukin windہم ایک ہی نظر میں کر بیٹھے انتخاب
پھر کہہ کے اسلام و علیکم کمایا ثواب
کچھ اور متاثر ہوئے انداز بیاں سے
جب خوبصورت سے لبوں پہ پایا جواب
ہوئی محنت سے ان کے دل میں رواں
پڑھنے لگے وہ عشق و محبت کی کتاب
رفتہ رفتہ پھر بڑھنے لگے سلسلے
وہ کرنے لگے ہم سے محبت بے حساب
کی چھپ چھپ کے چند روز ملاقاتیں
ہر وقت رہتا دل ملنے کو بے تاب
مجبور تھے کہ اک وسرے سے دور ہوئے
جب زمانے نے کیا ہمیں بے نقاب
اس کی شوخ شوخ ادائیں ستانے لگی
پیار بننے لگا دھیرے دھیرے عذاب
نہ راتوں کو نیند تھی نہ دن کو سکوں
عہد و پیماں لگے ہونے خراب
جب غیروں نے کیں کچھ مہربانیاں
آخر ہو گیا ویراں گلستاں شاداب
لکھا جو میں نے یہ ہے اک خواب
مگر اس سے ملنے کو دل ہے بےتاب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







