ہم بھی

Poet: Aashi By: Aysha, killeen

ہے کتنا حسیں آج یہ ماحول کا غم بھی
سب بھول گئی ہوں میں تیرے جور و ستم بھی

بکھرے ہوئے لمحوں کو ذرا کر لوں اکٹھا
تم گردش ایام سے کہنا ذرا تھم بھی

الجھی ہوئی باتوں سے نہ تم مجھ کو ڈراؤ
دیکھے بہت میں نے یہاں دنیا کے ستم بھی

اس دل میں چھپائے ہوئے زخموں کے خزانے
آئیں گے کسی روز تیرے شہر میں ہم بھی

اک لمحہ نہ چین آیا اسے دنیا میں رہ کر
حالات نے دکھ اس کو زیادہ بھی دیے کم بھی

وہ پوجا ہی کرتا تھا اسے دل میں بٹیھا کر
تھا شاید پتھر اس پاگل کا صنم بھی

کچھ عمر گریزاں نے نہ مہلت ہی ہمیں دی
کچھ عاشی کے ہاتھوں سے چھنا لوح و قلم بھی

Rate it:
Views: 627
20 Sep, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL