ہم تری راہ میں جب خود کو مٹانے نکلے
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D, UMTATA RSAہر تعلق میں محبت کے فسانے نکلے
خود کو سمجھے تھے نئے لوگ پرانے نکلے
بادہ ء عشق بلا خیز جوانی میں پیا
دل کم سن پہ ہی ہم زخم لگانے نکلے
ہم کہ مے نوش نہ رندی کا سلیقہ پھر بھی
آج ہم عشق کی مے پینے پلانے نکلے
معتبر گو کہ نہ تھے رکھتے تھے توقیر ذرا
آج رسوائی ء الفت کو زمانے نکلے
ایک دنیا کو ہے مٹتا ہوا دیکھا ہم نے
ہم تری راہ میں جب خود کو مٹانے نکلے
ہم رجالوں کا جنہیں مجمع سمجھتے تھے ندؔیم
غور سے دیکھا تو بس چند ہی دانے نکلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






