ہم تمھارے حسن کی پروا کیے بن جائیں گے
Poet: ناظم زرسنر By: Nazim ZarSinner, Pakpattansharہم تمھارے حسن کی پروا کیے بن جائیں گے
تم کو لیکن شہر میں رسوا کیے بن جائیں گے
اپنی مرضی سے جھکیں گے اپنے رب کے سامنے
ہم دکھاوے کے لیے سجدہ کیے بن جائیں گے
کس کے استقبال کو سجتی ہیں گلیاں شہر کی؟
ہم تو اپنے آپ کو آرا کیے بن جائیں گے
ہیں مسیحا جانتے یہ جاں خراباتی کی ہے
اِس لیے یاں سے مجھے زندہ کیے بن جائیں گے
ہم کو اُس سے حاصل ہی کیا جو عام ہو؟
غم کا باعث ہے کہ وہ پردہ کیے بن جائیں گے
ہم تمھارے بن ہزاروں سال جی کر جائیں گے
ہم تمھارے قرب کو رستہ کیے بن جائیں گے
تم سے رنجیدہ نہیں ہوں گے، ہمیں تیری قسم
ہم تمھارے قرب کو رستہ کیے بن جائیں گے
تم نہیں بنتے مرے تو میرے دل کو کیا پڑی
دل ترا الفت سے ہم آرا کیے بن جائیں گے
تم بھی تڑپو گے ہماری یاد میں، جانو یقیں
ہم وفا سے دل ترا تنہا کیے بن جائیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






