ہم تو جی رہے تیری خوشی کے لیے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamہم تو جی رہے ہیں تیری خوشی کےلیے
ورنہ کون یہاں جیتا ہے کسی کے لیے
غم کو مناؤں تو خوشی روٹھ جاتی ہے
میرےلیےدونوں ضروری ہیں زندگی کےلیے
جب ایک ایک کرکے سبھی سہارےچھوٹے
تو جاناکوئی ضروری نہیں ہےکسی کےلیے
آج وہی انسان انسان کا خدا بن بیٹھا ہے
مولا نےجسےپیدا کیاتھابندگی کےلیے
مکر وفریب کی یہاں کوئی گنجائش نہیں
نیت میں اخلاص ضروری ہےدوستی کےلیے
اصغرکےدامن میں دردوغم کےسواکچھ نہں
مجھےبھول جانا ہی اچھاہےاس پگلی کےلیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






