ہم تیری محبت سے گلہ تو نہیں کرتے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, rawalpindiہم تیری محبت سے گلہ تو نہیں کرتے
غم سارے زمانے کو ملا تو نہیں کرتے
یہ افسانہ نہیں یہ تو الم کی کہانی ہے
سارے لوگ زمانے کے یہ سنا تو کرتے
اب زخموں پہ مرہم کا کوئی اثر نہیں ہوتا
سمندر دریا سے کبھی بھرا تو نہیں کرتے
ترک الفت کی قسمیں بھلا کس نے نبھائی ہیں
کبھی رستے موجوں کے بدلا تو نہیں کرتے
درد کے ماروں کی بھی دوا ہے زمانے میں
زخم مگر دل کے روز سلا تو نہیں کرتے
ملیں گے تمہیں اک دن اپنا یہ وعدہ ہے
جو محبت کرتے ہیں دور رہا تو نہیں کرتے
سجا کے تبسم اب دل راکھ بنا اپنا
سر عام شمع پہ جلا تو نہیں کرتے
وہ نام کیوں جانے زباں پہ آیا اشتیاق
ورنہ بات کبھی دل کی ہم کہا تو نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







