ہم تیرے کلیات کیا سمجھے

Poet: purki By: M.Hassan, Karachi

جس قوم کو اقبال نے خودی کا درس دیا تھا
آج قطاروں میں کھڑے بھیک مانگ رہی ہے

یہ منظر دیکھ کر تیری روح تڑپ رہی ہوگی
تیری نظروں میں تیرا تصور ناچ رہی ہوگی

جو نقشہ تو نے کھینچا تھا اسلامی مملکت کا
وہ تیرے ہاتھوں میں آج لرز رہی ہوگی

نہ انصاف نہ امن، نہ روٹی کپڑا اور مکان
تو بھی ہوتا توآج ہماری طرح ترس رہا ہوتا

یہاں کوئی پڑھتا ہے نہ ہی سنتا ہے
تو بھی ہوتا تو ان پر برس رہا ہوتا

تو نے جو کلیات بخش دی تھیں
قوم اس کا ہی حق ادا کیا ہوتا

ہم تیرے کلیات کیا سمجھے
کچھ سمجھتے تو آج غلام ہوتا

Rate it:
Views: 537
30 Jul, 2012
More Political Poetry