ہم جو گزرے ہوئے لمحوں کی طرف دیکھتے ہیں
Poet: ریاض By: ریاض, Gujranwalaہم جو گزرے ہوئے لمحوں کی طرف دیکھتے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کی طرف دیکھتے ہیں
جن کو معلوم ہے نیندوں کے اجڑنے کا عذاب
جاگتی آنکھ سے خوابوں کی طرف دیکھتے ہیں
یاد آتا ہے ہمیں آپ کا چہرہ اکثر
ہم اگر چاند ستاروں کی طرف دیکھتے ہیں
منتظر ہوں گے کئی دن سے کسی کے شاید
لوگ حسرت سے جو رستوں کی طرف دیکھتے ہیں
اس کی اک بار نظر پڑنے پہ مغرور نہ بن
لوگ بازار میں کتنوں کی طرف دیکھتے ہیں
ایسی ترتیب سے زخموں کو سیا ہے میں نے
چارہ گر غور سے ٹانکوں کی طرف دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






