ہم خاک نشینوں کی جلتی نہ ردا یوں!
Poet: سید نذیر کاظمی By: سید نذیر کاظمی, العینشعلے نہ بھڑکتے، چلتی نہ ھوا یوں
ہم خاک نشینوں کی جلتی نہ ردا یوں
ہم قوتِ گویائ سے محروم نہیں تھے
واقف تھے کہ جائے گی تم تک نہ صدا یوں
اس طرح گریبان کیا چاک کسی نے
رویا ہے زمانہ کہ ہلا عرشِ خدا یوں
اپنا جو کسی غیر کے پہلو میں جا بیٹھا
اوروں کے رویے سے ذرا دل نہ دکھا یوں
ہم سا بھی کوئ ظرف کا حامل ہے کہیں پر
بس تیری خطاؤں کی سہتے ہیں سزا یوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






