ہم خوش گمانیوں میں رہتے ہیں آج بھی
Poet: UA By: UA, Lahoreہم خوش گمانیوں میں غوطہ زن رہتے ہیں آج بھی
کہ اس دل میں امیدوں کے دئے روشن ہیں آج بھی
کہ ہم اس کی عنایت سے کبھی مایوس نہ ہوں گے
کہ ہم اس کی حمایت سے کبھی مایوس نہ ہوں گے
کہ ہم سے گردش دوراں ذرا ہشیار ہی رہنا
کہ ہم تیرے ستم کے وار دل پہ سہتے جائیں گے
مگر اے گردش دوراں ہمیں شکوہ نہیں ہوگا
کبھی اے گردش دوراں ہمیں شکوہ نہیں ہوگا
ہم خوش گمانیوں میں غوطہ زن رہتے ہیں آج بھی
کہ اس دل میں امیدوں کے دئے روشن ہیں آج بھی
اگرچہ دھوپ ہے تو کیا، کبھی سحاب پرسے گا
اگرچہ رات ہے تو کیا، کبھی انوار برسے گا
اگرچہ بن میں کانٹوں کی بڑی بہتات ہے لیکن
یہیں پھولوں سے چہرے بھی کبھی تو مسکرائیں گے
خوشی کے گیت گائیں گے میرا گلشن سجائیں گے
ہم خوش گمانیوں میں غوطہ زن رہتے ہیں آج بھی
کہ اس دل میں امیدوں کے دئے روشن ہیں آج بھی
کہ اس کی بے نیازی عیاں نیاز مندی ہے
لبوں پر مہر ہے پھر بھی نگاہوں میں کہانی ہے
کہ اس کے بن کہے ہم اس کی باتیں مان لیتے ہیں
بنا اس کے کہے ہم دل کا کہنا جان لیتے ہیں
ہم خوش گمانیوں میں غوطہ زن رہتے ہیں آج بھی
کہ اس دل میں امیدوں کے دئے روشن ہیں آج بھی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






