ہم سفر اپنا ہے نہ رہبر نہ کوئی کارواں
Poet: Tanzeem Akhtar By: tanzeemakhtar, dohaہم سفر اپنا ہے نہ رہبر نہ کوئی کارواں
تو بتا اے زندگی جاؤں میں اب تنہا کہاں
کوئی تجھ سا مل نہ پایا اس بھرے سنسار میں
ڈھونڈ کر دیکھا ہے میں نے یہ زمین و آسماں
نیند کیوں آتی نہیں مجھ کو فراق یار میں
ہجرکی راتوں میں وہ بھی جاگتا ہوگا وہاں
کیسے آخر ڈھونڈتا صحرا میں تم کو ہم نشیں
نقش پا سب مٹ چکے باقی نہ تھے کوئی نشاں
یا الہی کیسی ہوں گی رونقیں اس شہر کی
نعمتیں بٹتی ہیں ہر سو خیر و برکت کی جہاں
کام کچھ ایسا تو کر تنظیم ، بن جائے مثال
بعد تیرے یہ جہاں دہرائے تیری داستاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







