ہم سے محبت بھی تھی ُاسے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia محبت بھی تھی ُاسے
نفرت بھی تھی ُاسے
چلنا چاہتا تھا ساتھ مگر
میرے راستوں سے
بغاوت بھی تھی ُاسے
مجھے اشک بار دیکھنے
کا شوق بھی تھی ُاسے
اور میرے لبوں کی
مسکراہٹ پسند بھی تھی ُاسے
محفلوں کا ذوق
بھی تھا ُاسے
تنہایوں سے
خوف بھی تھا ُاسے
محبت میں حدوں سے گزرنے
کا جنون بھی تھا ُاسے
اور دنیا کا بہت
خیال بھی تھا ُاسے
نئے دوست بنانے کا
کمال بھی تھا ُاسے
اور بھول جانے کا
انداز بھی تھا ُاسے
محلوں سے الفت
بھی تھی ُاسے
اور سادگی سے
لگاؤ بھی تھا ُاسے
پھولوں کی خواہش
بھی تھی ُاسے
اور کانٹوں سے
لڑائی بھی تھی ُاسے
ہم سے محبت
بھی تھی ُاسے
اور اقرارے وفا
سے نفرت بھی تھی ُاسے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






