ہم سے ملنے کو آئیے صاحب

Poet: Mah Rukh Zaidi By: Shazia Hafeez, Attock

ہم سے ملنے کو آئیے صاحب
یا ہمیں ہی بلائیے صاحب

دوست ہی کیا سدا رہیں گے ہم
بات کچھ تو بڑھائیے صاحب

ہو گیا ہے جو لکھا تھا قسمت میں
کاہے آنسو بہائیے صاحب

پاس آجائیے خدا کے لئے
دل نہیں اب جلائیے صاحب

بھوک تو مر گی ہے ہماری اب
کسی کی خاطر کمائیے صاحب

تھوڑی اشکوں کی کیجیے برسات
آگ دل کی بجھائیے صاحب

کیوں ہے خاموش اس قدر آخر
کچھ تو ہم کو بتائیے صاحب

خوف آتا ہے اس اندھیرے سے
ہاتھ اپنا بڑھائیے صاحب

آپ کے ساتھ کون تھا کل شب
ہم سے کچھ مت چھپائیے صاحب

ماہ رخ بے وفا ہے لوگ یہاں
کیا بھلا دل لگائیے صاحب

Rate it:
Views: 902
07 Aug, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL