ہم سے کر لیتے ہیں پیمان وہ ہر بار کییٔ
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKہم سے کر لیتے ہیں پیمان وہ ہر بار کییٔ
ہیں عزیز اُن کو مگر اور بھی دِلدار کییٔ
اس کی باتوں سے مہک آتی نہیں پھولوں کی
جس نےلفظوں سے کھلا ڈالے ہیں گلزار کییٔ
کتنا معصوم ہے اب تک اسے معلوم نہیں
کھیل میں اس نے جلا ڈالے ہیں گھر بار کییٔ
وہ جنھیں روز سہولت سے بدل دیتا ہے
زندگانی کے لیۓ اس کے ہیں معیار کییٔ
میرے غم کا ہی مداوہ نہ کویٔ کر پایا
یوں تو دنیا میں نظر آتے ہیں غمخوار کییٔ
شاز ہی چھوتی ہے تحریر کویٔ ذہنوں کو
یوں تو تخلیق ہوۓ دنیا میں شہکار کییٔ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






